افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں ،ناواپاس کو کھولنے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔جرگہ

باجوڑ-ناواگئ میں عوامی نیشنل پارٹی ضلع باجوڑ کے زیرِ انتظام ،ناواپاس ،اور دیگر تجارتی راستوں کو کھولنے کے حوالے سے ایک گرینڈ قومی جرگہ منعقد ہوا )

جرگے میں ضلع باجوڑ کے قومی، سیاسی، و مذہبی مشران سمیت تاجر برادری کے زمداران نے اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جرگے میں مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان کی سائیڈ پر واقع ،ناواپاس ،گاخی پاس، اور ،لیٹئ پاس سمیت نئے اضلاع میں بدامنی کے نام پر بلاجواز بند تجارتی راستوں کو فی الفور  کھول دیا جائیں۔

تجارتی راستوں کو کھولنے تک قومی جرگوں کا  یہ سلسلہ مزید بھی جاری رہیگا ۔ان تجارتی راستوں کو بند رکھنے سے بدامنی اور غربت کے شکار یہ علاقے مزید مسائل کا شکار ہو رہےہیں

باجوڑ کے تجارتی راستوں کی مسلسل بندش نے دونوں اطراف کے آباد پختونوں کو بیشمار مسائل سے دوچار کیا ہے ۔افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں  ،ناواپاس  کو کھولنے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔

اے این پی کے صدر گل افضل خان نے کہا کہ افغانستان کے راستوں کے حوالے سے بہت جلد ہم ایمل ولی خان کیساتھ ایک ملاقات کریں گے جسمیں مستقبل کے لائحہ عمل کیلئے  ہر فورم پر جائیں گے ۔

 اے این پی تجارتی راستوں کے بندش کیخلاف ہر میدان میں کردار ادا کریگی۔باجوڑ اور دیگر اہم تجارتی راستوں کو مزید بند رکھنا پشتونوں کے معاشی قتل عام کے مترادف ہیں ،ناواپس ،کے کھولنے  سے باجوڑ سے لیکر  ملاکنڈ تک لاکھوں پختونوں کو سنٹرل ایشیا تک کاروبار کے مواقع ملیں گے ملکی اقتصادی شرح نمو بڑھی گی جس کے نتیجے میں ان پسماندہ علاقوں کی ترقی ممکن ہو سکے گی۔

جرگے سے ،اے این پی ضلع باجوڑ کے صدر ،گل افضل خان ، پیپلز پارٹی کے سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن سابق ممبر قومی اسمبلی سید اخونزادہ چٹان ، اے این پی کے سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن شیخ جھانزادہ ، ملک رحمان اللہ ، عوامی نیشنل پارٹی ضلعی جنرل سیکرٹری نثار باز، خار بازار صدر لالی شاہ پختون یار ،۔ سراج الدین خان آف پشت ، ملک عطاء اللہ خان لالا ، عنایت کلی بازار کے صدر عمران ماھر ، مولانا گل داد خان ، مولنا عطاء اللہ رحمانی ، مولنا سیف الرحمن حقانی  پیپلز پارٹی باجوڑ کے صدر حاجی شیر بہادر ، لیکوال مولانا خانزیب، قاضی عبد المنان ،ور دیگر نے خطاب کیا ۔

یاد رہے ! کہ باجوڑ میں 2008 اپریشن کے بعد بند  ہو ئے تھے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.