ضلع کرم :قدرتی خوبصورت و دلکش مناظر،گھنے جنگلات،ٹھنڈے چشموں اور آبشاروں کی سرزمین جو حکومتی توجہ کی مختاج

تحریر محمدجمیل ۔

ضلع کرم تین سب ڈویژن آپرکرم،لوٸیرکرم اور سنٹرل یعنی وسطی کرم پر مشتمل ایک خوبصورت علاقہ ہے جن کی مجموعی آبادی آٹھ سے دس لاکھ تک ہے۔وسطی کرم چار بڑے ذیلی قوموں جن میں ذیمشت،ماسوزٸی،علیشیرزٸی اور پاڑہ چمکنی ہیں جن کی اپنی آبادی بھی اگر صحیح معنوں میں مردم شماری کی گٸی چار لاکھ سے زیادہ آبادی کا علاقہ ہے۔ہر قوم کے اندر چھوٹے بڑے ذیلی شاخیں پاٸی جاتی ہیں۔  لوٸیرکرم سے ملحقہ وسطی یعنی سنٹرل کرم ذیمشت جس میں منتوال ،خوٸیدادخیل،وتیزٸی اور کٸی دوسرے ذیلی قومیں آباد ہیں۔پورا علاقہ قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ہر علاقے کا اپنا جغرافیہ اور خصوصیت ہے۔خالص قباٸیلی عوام ہیں ۔اپنا کلچر اور روایات رکھتے ہیں۔عام طور پر ان کا پیشہ کاشتکاری ہے۔تاہم زیادہ تر لوگ خلیج ممالک میں اپنی محنت و مزدوری کے ذریعے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

یہاں ہم ذکر کر رہے ہیں ذیمشت کے ذیلی قوم منتوال علاقہ مناتو کا جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں وسیع علاقے پر پھیلے ہوۓ گھنے جنگلات ، چشمے ،آبشار،پکڈنڈیاں،نشیب وفراز اورکٸی علاقوں میں معدنیات خاص کر کوٸلے کے ذخاٸر پاۓ جاتے ہیں۔یہ علاقہ گزشتہ ادوار میں دہشت گردی کا بھی شکار رہا جس کی وجہ سے علاقے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ سیکیورٹی فورسز،حکومت اور علاقاٸی مشران کی وجہ سے اب یہاں بلکل امن ہے اور حکومت اپنے تٸیں توجہ دے رہی ہے تاہم  بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور توجہ طلب ہے۔

 مناتو  پاڑہ چنار شہر سے تقریباً چالیس پچاس ،جبکہ سدہ لوٸیر کرم سے پندرہ بیس کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ عام لوگوں کا دارومدار سدہ شہر پر ہے ۔اپنی تمام تر ضروریات سدہ شہر سے ہی پوری کرتے ہیں ۔چونکہ سدہ شہر لوٸیر اور سنٹرل کرم دل  ہے اسلیے یہاں تقریباً چھ بڑے آقوام کا مشترکہ گھر ہونے کی حیثیت رکھتا ہے اسلیے اسی شہر سے  لوگ تمام تر اپنی ضروریات یہاں سے پورے کررہے ہیں اور یہی وجہ کہ سدہ شہر آکر ہر ایک اپنے آپ کو یہاں اپنے گھر جیسا محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ مناتو ایک انتہائی خوبصورت وادی ہے جہاں دلکش نظارہ پاۓ جاتے ہیں ۔  یہ علاقہ زیادہ تر پہاڑی ہے ۔سدہ ٹل پاڑہ چنار روڈ سے ملحقہ ہے اور ان کی مین سڑک ضلع ہنگو دوابہ اور دوسری طرف قوم علی شیرزٸی کے متعدد علاقے جیسا کہ کوٹکی، شمخئی،خرہ شو، مرغان سے جا ملتے ہیں۔ مقامی علاقے لنگرو، چناراک، لوئر منڈان، اپر منڈان،دورانی، شگئی، میلہ، خٹکہ میلہ، کونڈالی بابا، اووٹ، وراستہ، خاوکلے، ظریف خان کلی کی ہزاروں آبادی کے کٸی سو گھرانے اس کے ساتھ منسلک ہیں۔

ایک طرف اگر یہ علاقہ قدرتی حسن سے مالامال ہے تو دوسری طرف  زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ یہاں دلکش اونچے اونچے خوبصورت پہاڑ، ٹھنڈے پانی کے چشمے، اونچاٸی سے گرنے والے پانی کے خوبصورت آبشار ہیں جنہیں لوگ دیکھنے کے لیے دور دور سے آتے ہیں۔یہاں چناراک کا وہ خوبصورت علاقہ بھی ہے جہاں کسی زمانے میں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بجلی کا ٹرباٸن بنادیا تھا اور ان کی بجلی کا نظام اتنا بھاری تھا کہ لوگ ان کو قابو نہیں کرسکتے تھے اور بدقسمتی سے علم اور ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ وہ تجربہ اور منصوبہ ناکام ہوا۔اس میں کوٸی شک نہیں ہے کہ

کسی بھی علاقے اور قوم کی ترقی کا انحصار ان کے مواصلاتی نظام یعنی سڑکوں اور تعلیمی نظام پر ہی ہے یہاں ان دونوں کی کمی ہے۔سڑکیں اکثر کچی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔تعلیم اور تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ گزشتہ ادوار میں جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ یہ علاقہ دہشت گردی کا شکار ہوا۔اس زماے میں یہاں واحد تعلیمی ادارہ ہاٸی سکول بھی دہشت گردی کا شکار ہوا تاہم سیکیورٹی فورسز یعنی پاک فوج نے متبادل ایک خوبصورت ڈبل سٹوری ہاٸیرسیکنڈری سکول برآۓ طلباء دے کر اس علاقے پر بہت بڑا احسان کیا ہے اور پوری قوم پاک فوج کے اس اقدام پر احسان مند اور شکر گزار ہے۔درجنوں کے حساب سے یہاں اپنے کٸی دیہات جن کا پہلے ذکر ہوا ہے اور ملحقہ قوم علی شیرزٸی علاقے کے بھی بہت سے دیہات کے بچے اسی سکول میں پڑھنے اور اپنی تعلیمی تشنگی بجھانے کے لیے بہت دور سے آتے ہیں اسلیے بہت بڑی آبادی کے ناطے بچوں کیلئے یہی ایک تعلیمی ادارہ بچوں کی تعداد کے لحاظ سے ناکافی ہے اور بچوں کی مقررہ تعداد اس سے  کہیں زیادہ ہے۔ ہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ دور دراز سے پیدل آنے والے طلباء کے لیے اگر ہاسٹل تعمیر کی جاۓ تو بچوں کی وہ ذہنی پریشانی ختم ہوجاۓ گی جو بادوباران یا گرمی سردی میں روزانہ انہیں درپیش ہے۔سکول کی اندرونی ضروریات جیسا کہ ایڈیشنل کلاس رومز  پرنسپل اور سٹاف رومز، ساٸنس رومز اور لیبارٹری،آٸی ٹی لیبارٹریز، کتب بینی کے لیے لاٸبریری وغیرہ کی اشد ضرورت ہے۔مستقل طور پرنسپل اور ساٸنس ٹیچرز نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کا وقت بھی ضایع ہورہا ہے لہذا یہ بھی توجہ طلب ہیں۔

 یہاں تعلیم نسواں کا بہت بڑا فقدان ہے اور طالبات کے لیے تعلیمی ادارے نہ ہونے کیوجہ سے تقریباً اٹھ سو سے زاٸد بچیوں کا مستقبل تاریک ہے۔کچھ علاقوں میں بچیاں پراٸمری تک پڑھنے کے بعد غربت اور ہاٸی سکول کی دوری یا نہ ہونے وجہ سے ادھوری رہ جاتی ہیں۔ لہذا مناتو کے مقام پر ایک بہترین گرلز ہاٸیر سیکنڈری سکول کی اشد ضرورت ہے۔بچیوں کی تعلیم پر حکومت زور دے رہی ہے اور تعلیم یافتہ ماں پالیسی کی بنیاد بھی ہے اسلیے ہم بھی چاہتے ہیں کہ یہاں سے بھی ملک وقوم کو تعلیم یافتہ ماٸیں دے سکیں۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ مناتو سدہ شہر سے  تقریباً بیس پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور یہ واحد سڑک سنٹرل کرم کو لوٸیر کرم سدہ شہر سے ملا دیتا ہے پوری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر کھنڈر بن گیا ہے۔ اس واحد سڑک پر مختلف مقامات پر رابطہ پل نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کے دنوں سیلابی ریلوں میں پانی کی تیز بہاٶ اور طعیانی کی وجہ سے علاقہ دوسرے علاقوں سے کٸی کٸی روز تک کٹا رہتا ہے جس کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی چیزیں لانے اور خصوصاً ایمرجنسی میں مریضوں کو ہسپتال تک پہنچانے میں بڑی تکلیف اور  شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک پر بھی پانی کی تیز بہاٶ سے گاڑیوں کا گزرنا مشکل بن جاتا ہے اسلیے ایک مستقل سروے کی جاۓ اور این ایچ اے کے ذریعے اس سڑک کی توسیع اور جہاں جہاں بھی ضرورت ہے رابطہ پلوں کے جامع منصوبہ بندی کی جاۓ۔ یہاں کی اکثر لوگ غربت کی وجہ سے عرب ممالک سمیت مشرق وسطیٰ ، ایشیاٸی اور خلیج ممالک سمیت یورپی ممالک میں بھی کام کرکے ملک کو وسیع پیمانے پر زرمبادلہ کرتے ہیں اور وہاں سے آج کے جدید دور کی ضروریات ٹیلی کمیونیکشن نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اور ان کے خاندانوں کو کٸی طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہذا مواصلات کے دوسرے اہم جزو ٹیلی کمیونیکشن خاص کر ٹیلی فون ایکسچینج ، جاز، ٹیلی ناراور دوسرے ذرایع ابلاغ کے ضروریوت کو مدنظر رکھ کر ایک مستقل سروے کی جاۓ اور عوام کو دیی جانے والی  اس سہولت سے حکومت اور مختلف کمپنیوں کے آمدن کا ذریعہ بھی بن سکے گا۔گزشتہ ادوار میں ہونے والی دہشت گردی سے  اس علاقے کی معیشت اور روزگار دونوں کو کافی نقصان پہنچا  ہے۔ آج بھی متعدد گھرانے دوسرے علاقوں میں ہجرت اور غربت کے دن گزار رہے ہیں۔ ان کے گھر مسمار ہیں۔ حکومت کی طرف سے تاحال کوٸی معاوضہ نہیں ملا اسلیے یہ لوگ  اپنے گھروں کو آباد کرنے سے قاصر ہیں اور تاحال صوبے اور ملک کے مختلف علاقوں میں کسمپرسی کے دن گزار رہے ہیں۔علاقہ مکینوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے مسمار گھروں کا بلاامتیاز  سروے کی جاۓ اور آبادکاری کیلئے معاوضہ دیا جائے تاکہ یہ لوگ دوبارہ اپنے گھروں کو آباد کرکے اپنے علاقوں میں واپس آکر اس علاقے کی تعمیر ترقی و خوش حالی کا حصہ بن سکیں۔

پہاڑی علاقہ ہونے کے ناطے مکین  علاقہ پینے کے صاف پانی سے محروم ہے اور بعض علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے۔ دور دراز  چشموں سے پانی کو پائپس کے ذریعے سے  گھروں میں لایا گیا ہے جنکا پریشر کمزور ہے۔ باپردہ خواتین دور چشموں سے سروں پر پانی لانے پر مجبور ہیں ۔تاحال  حکومت نے اس علاقے میں ایسی کوئی ڈیم یا ریزروائر وغیرہ کی کوٸی بھی پراجیکٹ تعمیر  نہیں کی ہے لیکن ان کی بہت گنجاٸش ہے ۔ اگر یہاں پر کوئی ایک بھی ہائیڈل پاور سٹیشن بنا دیا گیا تو اس سے نہ صرف پورے علاقے کو بجلی فراہم ہو سکتی ہے بلکہ دوسرے علاقوں کو بھی بجلی دی جاسکتی ہے اور مستقل بنیادوں پر یہاں بجلی کا مسلہ ختم ہوسکتا ہے۔صحت بھی ایک بنیادی مسلہ ہے اور

صحت کے بنیادی سہولیات کی اہمیت سے اس دور جدید میں کون واقف نہیں ہے۔ ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے عام مریضوں کو بھی بیس کلومیٹر دور سدہ شہر لانا پڑتا ہے۔لہذا حکومت کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرانے کو کوشش کرتے ہیں اور دور جدید کا ایک بڑا اور خوبصورت ہسپتال جو تمام تر ضروریات سے آراستہ ہو کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہیں۔ قباٸیلی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں جوان طبقے کی تعداد بہت ہے اور کھیل بھی اس وقت کی بنیادی اکاٸی ہے۔کھیل کے میدان نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان طبقہ ضایع ہورہا ہے لہذا کھیل کے میدانوں کے لیے کافی گنجایش ہے اور ان تمام تر ضروریات کے لیے ارضیات کی مفت فراہمی کے لیے بھی قوم تیار ہے لہذا میران شاہ ، پاڑہ چنار یا خیبر کی طرح بہترین کھیل کے میدان تعمیر کیے جاٸیں اور نوجوان طبقے کو بے راہ روی سے بچاٸیں۔قوم ہمدردانہ اپیل کرتی ہے کہ اس علاقے کی تعمیر و ترقی کی طرف توجہ دی جاۓ تاکہ ہم بھی ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ترقی و خوشحالی کا حصہ بن سکیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.