محشر ستان !

تحریر: اشنا باجوڑی

غلام حسین محب ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے کہنہ مشق شاعر، صاحب طرز لکھاری، تیز و طرار صحافی اور منجھے ہوئے ریڈیو براڈ کاسٹر ہیں جو ادبی پروگرامات کو خود ہی پروڈیوس کرکے براڈ کاسٹ بھی کرتے رہتے ہیں، جن میں کتابوں پر تبصرے اور منتخب شاعری شامل ہوتی ہیں۔ ٓپکے ادبی فکری و عملی خدمات کے حوالے سے کتاب کے بیک فلیپ پر حیران مومند نے بڑے جامع انداز میں تلخیص پیش کردی جس کی اگر بجائے اجمالی ذکر تفصیل  سے ذکرکیا جاتا تو  اچھا خاصہ مقالہ وجود میں آسکتا تھا تاہم اللہ کرے ہمارے نوجوان لکھاری ایسے اساتذہ کی خدمات اور تعلیمات پر تفصیلی مقالہ جات لکھنے کے قابل ہو ں،  تاکہ اپنی مشاہیر سے ان کے جیتے جی  دنیا کو روشناس کرائیں ۔ حیران  مومند کی  مذکورہ  تلخیص سے آپ یہ پیراگراف ملاحظہ فرمایں۔ 

"غلام حسین محب نے پشتو شعر وادب کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے اور مومند ادبی غنچہ کی بنیا د رکھ کر گزشتہ ۲۹ سال سے ادبی خدمات انجام دے رہا ہے۔ جس میں نئے لکھاریوں سمیت شعرا کی ادبی تربیت ہوتی رہی ہے۔ اب تک پشتو شاعری کے چھ ۶ مجموعے شائع کرچکے ہیں۔ معاشی اور معاشرتی مشکلات نے بھی ان کا جذبہِِ فن اور ان کے  قدموں کو ڈگمگایا نہیں بلکہ اس میں بدرجہ ہا اضافہ کیا اور ان کی تخلیقات میں نکار پیدا کیا۔ انہوں اردو شعری مجموعہ "محشرستان” اپنی تخلیقات میں ایک اور گلدستے کا اضافہ کیا جو فاٹا (جو کہ ابھی  خیبر پختونخوا میں ضم  ہوچکے ہیں )سے اردو ادب میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہوگا”۔[1]

آپ کی وسیع المشربی کا اندازہ ان کی اس مجموعے سے بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ایک ایسی زبان میں شعری مجموعے کے خالق ہیں جس میں وہ کم ہی سوچتے ہونگے اور کم ہی اسی زبان میں سپنے دیکھتے ہونگے۔  گر چہ اردو کے لیے دوسرے مشرقی زبانوں  یعنی عربی و فارسی اور سنسکرت زبانوں پر بھی عبورکی کسی حد تک ضرورت ہوتی ہے۔ پھربھی اسی زبان میں لکھنے کی بڑی حد تک کامیاب جسارت کا ارتکاب کرجاتے ہیں ۔

آپکی زیر مطالعہ کتاب محشرستان ، مارچ ۲۰۱۸ میں شائع ہوئی ہے۔ جس  کی ٹائٹل ڈیزائیننگ شاہ محمود خان مہمند (مومند ) نے کی ہے۔ اور کمپوز غلام حسین محب نے خود ہی کی ہے۔  جیسا کہ مذکور ہوا حیران مومند کی تحریر کے علاوہ کتاب پر بالترتیب  ریحان مومند اور شمس مومند کے نسبتا ً تفصیلی مقدمات بھی موجود ہیں ۔

نام کے ساتھ مواد کے مماثلت کو دیکھا جائے جو کتاب میں داخلی محشر کا زیادہ مواد ملتا ہے تاہم، نام کا زیادہ تر تعلق نائن الیون کے بعد کے حالات  اور اسکے اثرات سے وابستہ ہے۔ اس حوالے سے اگر مقدار  کے  لحاظ سے مواد کم ہے ، مگر پراثر، پردرد، اور کھرے ہیں،  ایک نمونہ ذیل میں ملاحظہ کیجئے ۔

 ڈر ابھی باقی نہ دوزخ کا رہا
زندگی اپنی جہنم ہوگئی[2]

عین اسی طرح کا ایک نظم جس کا پس منظر بھی نظم سے پہلے تحریر ہے۔ جس کے مطابق یہ اسی دن کے تاثر میں لکھا گیا ہے جس  دن ۱۶ ستمبر ۲۰۱۲ کو ضلع مہمند کے ایک جامعہ مسجد میں دوران نمازِ جمعہ خود کش دھماکہ ہوا جس کے نتیجے ۳۶ افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ اس نظم کا مطلع اور مقطع بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔

مطلع

پھر لہو رنگ ہوئے مسجد و محراب یہاں
ایسا منظر کے نہ رکھے بھی کوئی تاب یہاں
مقطع

جانے پھر کیوں محشرستاں نہیں ہوتا بپا
جانے کب تک کہ محب یوں سہے عذب یہاں[3]
 

محشرستان کی ترکیب کو اگر دیکھا جائے تو عربی کی محشر سے بنی ہے۔ جو کہ مفرس ترکیب ہے جس کے ساتھ ستان کے اضافے سے اسم مکان بنایا گیا ہے۔ عربی لغت کے مطابق اس  کی معنی ،

"اَلمَحشرِ والمحشِر ۔ لوگوں کی جمع ہونے کی جگہ”[4]

فیروز اللغات میں محشر کی معانی کچھ یوں، لکھی گئی ہے۔

"محشر( مح ۔شر) (ع۔ا۔مذ) (۱) میدانِ حشر، قیامت کے دن اکٹھا ہونے کی جگہ ، (۲) قیامت” [5]

گرچہ  محب کے ہاں یہ ترکیب بطور علامت مستعمل ہے۔ اصطلاح کے  طور پر محشرستان بطور قیامت لیا جاتا ہے۔ یعنی، یہ لوگوں کی جمع ہونے کی جگہ کے بجائے، قیامت کے دن کی سختی، کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں نفسا نفسی کی کیفیت، خوف، اللہ تعالی کی ناراضگی کا ڈر، اپنے گناہوں کے بقدر پسینہ وغیرہ وہ کیفیات ہیں، جو محشرستان سنکر ہی ذہن کو جکڑ لیتے ہیں۔

عین اسی طرح اردو لغت تاریخی اصول پر، کے مطابق  محشرستان کی معنی یا تشریح کچھ یوں کی گئی ہے۔

جہاں نفسی نفسای کا عالم ہو، جس جگہ ہر شخص صرف اپنے آپ سے غرض رکھے، حشر برپا ہونے کی جگہ، میدان حشر؛ (مجازاً) ہنگامہ ، ہجوم  یاافراتفری کی جگہ[6]

نفسانفسی، خود غرضی، ہنگامہ آرائیاں، قوم اور ملت کے بجائے ہجوم، اور افراتفری وہ تمام چیزیں ہیں جو من الحیث القوم ہمارے فرد فرد کے نس نس میں بسی ہیں۔  موصوف کا تعلق قبائیلی اضلاع کے خطے سے ہے،   جہاں پچھلے دو عشروں سے زندگی کس کروٹ پڑی ہے۔ ؟ جھانکنے کی کوشش کی ہے

پچھلے دو  عشرے اپنی محشرسامانیوں کے لحاظ  سے محب کے شاعری کے سیاق و سباق کے بطور کافی قابل ذکر ہیں۔  ان دو عشروں میں قبائیلی پٹی جنگ کی بھٹی بنی رہی۔ کاروبار، بند ہوگئے تعلمی ادارے،مراکز صحت، سرکاری قانونی،  اور اقتصادی مراکز کا زمین بوس ہونا، آئے روز لاشوں کے انباروں پر سے گزرنا، جھلسے ہوئے خون اور گوشت پوست کی بد بو میں سانس لینا، بازاروں کے چھتوں   سے جسموں کے اعضا کو اکٹھا کرنا، زخمیوں  کے دلدوز چیخ وپکار، بچھڑے بچوں کے پیچھے پریشان گرتے پڑتے بوڑھے والدین  کی کان پھاڑ آہ وبکا،  عید کے دن عید گاہوں میں اجتماعی جنازے، بہاروں میں جلے ہوئے گلزار و گلستان، وہ مناظر ہیں جو محشرستان سے عبارت شاعری کو ہی جنم دے سکتے ہیں۔ موصوف نے ان حالات کی ترجمانی کا پورا پورا حق ادا کرتے ہوئے  اپنے فکر کے  روشنی سے  محتویات کا ہر حرف و لفظ  کو  روشن کردیاہے ۔ہر منظر کو من وعن رکھنے کی کوشش کی ہے، ہر سماجی برائی اور ہر نامناسب روئیے کو نوک تنقید پر رکھا ہے۔ اور متھیو ارنلڈ کے خیال  کہ  شاعری تنقید حیات ہے   کو   بڑی حد تک سچ ثابت کردیا ہے۔

ائیں، محب کی شاعری میں مذکورہ موضوعات کے کچھ نمونوں پر تبصرے کی جسارت کرتے ہیں۔

سارے ایک دوسرے سے بھاگتے ہیں
محشرستاں میں دل نہیں لگتا [7]
آگ سے کوہ و دمن کچھ بھی نہ بچنے پائے
وہ گل و غنچہ وہ بہار کہاں سے لاؤں[8]

ایک دوسرے سے بھاگنا قیامت ہی کے مناظر کا حصہ ہے،  تاہم اس کا ایک جھلک محب نے جیتے جی بھی دیکھ لیا۔ خود غرضی اور اپنے ذات کے خیر کے لیے معصوموں کی عفت و عصمت دری سمیت درندگی  سے مار کر اجل کے  منہ میں دھکیل دیا۔  بھائی بھائی نہ رہا یار یار نہ رہا،  ذاتی مفاد اور ذاتی ضروریات  خواہشات ہمارے گلے طوق بن گئے۔ خون سپید ہوگئے، رشتے پیکے پڑ گئے۔ دھوکہ دہی اور فریب کاری سے کمانا کمال ہنر بن گیا۔ صداقت، ایمانداری اور ایمانداری کو سادگی کہا گیا۔ ناسمجھی کہا گیا۔  دوسروں کے خیال رکھنے کو بے جا ہمدردی سے تعبیر کیا گیا۔  انسانی احترام کو پس پشت ڈالا گیا ۔ موقع پرستی ابن الوقتی، اور مفادپرستی کے لیے ہر حد سے گزرنا ، کئی زبانیں اور کئے چہرے اور روپ رکھنا، کامیابی کی ضمانت ٹہری،   تب ہی توبندہ  کہنے پر مجبور ہوگیا کہ ،

یاں تو ہر شخص نے چہرے پہ سجائے چہرے
صدق و ایفا کے خریدار کہاں سے لاؤں
ہر طرف حبس ہے بارود کی بو پھیلی ہے
رنگ اور نکہت گلزار کہاں سے لاؤں[9]
جھوٹ ہے عیب ہے دھوکہ سبھی مل جاتےہیں
پر یہاں صدق وصفا کا کوئی بازار نہیں[10]

مذکورہ معنوں میں ایک معنی افراتفری کا عالم بھی ہے۔ ہم اگر موصوف کے علاقے  کی سماجی اور سیاسی فضا کی بات کرتے ہیں۔ تو پتہ چلتا ہے۔ کہ موضوف پچھلے دو عشروں سے اسی افراتفری کے ماحول میں جینے پر مجبور ہیں۔  ایک مسلسل بے یقینی کی صورتحال سے دوچار رہے ہیں۔ ایک ایسی افراتفری کی عالم کے تاحال شکار ہیں، جس میں زندگی موت سے کئی گنا زیادہ آسان ہے۔  ایسی صورتحال میں اس قسم کی شاعری عین حسبِ توقع ادب اور شاعری کہلائے گی۔

کسے ہمزاز سمجھے ہم کسے ہم راہنما سمجھے
جنہیں ہم معتبر سمجھے رہا نہ اعتبار ان کا[11]

اس شہر آشوب سے گزر کر جو دوسرا موضوع قابل ذکر ہے وہ، موصوف کی ذاتی اور قلبی واردات اور اس کے ساتھ ساتھ اپکی شخصیت کے کچھ اہم پہلو ہیں۔ ان میں اگر ہم  موصوف کی  ذاتی واردات کو دیکھیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موصوف انتہائی حسن پرست اور محبت کرنے والی شخصیت واقع ہوئی ہے۔ آپ کی کتاب میں جابجا اپکی محبتوں، وفاؤں، ہجر وصل اور دیگر تلازمات کافی مقدار میں موجود ہیں۔ فکری طور پر محب محبت ہی کو زندگی کی تمام دکھوں کا مداوا سمجھتے ہیں۔ وہ نفرتوں اور کینہ وحسد کی تاریکیوں کا علاج محبت کی روشنی کو سمجھتا ہے۔ اور تبھی وہ کچھ یوں رقمطراز ہیں۔

محبت کے لفظ کی روشنی سے
اندھیروں کو ہرانا چاہتا ہوں

عمومی طور پر جب بندہ اسیر زلف ہوجاتا ہے۔ تو برسبیل تذکرہ بھی دوستوں کے ساتھ ذکر ہوجاتا ہے۔ اکثر دوست  نصائح پر آجاتے ہیں۔ اور طرح طرح کی نصحیتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ جبکہ کچھ مسکرا مسکرا کر جیسے مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔ اسی کا غم شائد غالب نے بھی رویا تھا۔

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا

عین اسی طرح محب بھی کہتے ہیں،

حال دل سن کے مسکراتے ہیں
بزمِ یاراں میں دل نہیں لگتا[12]

ان احساسات کے ساتھ ساتھ محب نے اپنی  شاعری میں اپنی محبتوں کی ناکامی کا رونا کھل کے رویا ہے۔ اور اپنا دل کھول کے رکھ دیا ہے۔  حسینوں کے ناز نخرے اٹھائے، پر لاحاصل ، محبت کے ایسے ایسے افسانے جنہیں ایک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا لگا اور چھوڑ چکے ۔  مگر وہی محبتیں دل ہی دل میں زندہ رہی اور لاشعوری طور پر محب کی شاعری میں اس بات کی دلیل بن گئی ہے کہ محب نے محبتیں کی کاروبار نہیں کیے۔

حسینوں مہ جبینوں کے یہاں نخرے عجب دیکھے
جو آنکھوں سے بلاتے ہیں وہی دل سے بھلاتے ہیں[13]
اجیرن ہوگیا جینا زہر خوردہ فضائیں ہیں
جفاؤں سے شکست خوردہ وفائیں ہی وفائیں ہیں[14]
ہر دن ہزار زخم ملے ہیں ہزار غم
آگے ہمارے عشق کی تفصیل کا نہ پوچھ[15]

بشر دوستی

انسان دوستی اور بشر دوستی تقریباً ہر شاعر کی خاصیت ہوتی ہے۔ چونکہ شاعر قدرتی طور پر انسانی محبت اور احترام کےجذبے سے مالا مال ہوتاہے۔ لہذا اکثر شعرا کے ہاں انسان دوستی، یعنی تمام انسانیت سے بلا تفریق محبت اور ہمدردی کے شواہد و دلائل مل جاتے ہیں۔ محب کا شمار بھی ان شاعروں میں ہوتا ہے۔ آپ کی کتاب میں جابجا انسانیت سے محبت اور عالمگیر بھائی چارے، رواداری، اور ہمدردی کا درس ملتا ہے۔ محب کا تعلق پختون قوم سے ہے۔ موجودہ زمانے میں پختون کو ایک دہشت گرد قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کردیا گیا۔ تاہم پختون ولی اور اسلام پر کاربند یہ قوم بڑی حد تک انسانی احترام اور عالمگیر انسانی بھائی چارے کا خواہاں ہے۔ محب کی ذیل کے ایک ہی  شعر میں(طوالت سے پرہیز کرتے ہوئے) ان کے قومی احساسات کی ترجمانی ملاحظہ کیجئے۔

عقیدہ یہ ہے کہ انسان کو انساں سمجھے
یہی نہیں کہ عقیدت رکھے مدینے سے[16]

عصری شعور

آپ شعر گوئی کے لیے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر  جانچنے کا ہنر ضروری سمجھتا ہے ۔ اور شائد یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعری میں عصری شعور وافر مقدار میں موجود ہے۔ آپ نے اپنے عصر کی قومی ضروریات اور تقاضوں کے عین مطابق شاعری کی ہے  ۔  اور اس دور کے عالمی سیاست کے اثرات کو محسوس کرتے ہوئے قوم کو تیاری کا درس دیا ہے۔  آپ نے اپنی شاعری میں قوم کے بڑے مسائل کے طرف اشارے بھی کیے ہیں اور ساتھ میں اپنے فکر و فن کے ذریعے مسائل کا موزون حل بھی پیش کیا ہے ۔  اس حوالے سے نیچے درج دو عدد شعر شائد ہمارے  دعوے کی تصدیق کرسکے۔

وقت کی نبض پرکھنی ہے محب
ورنہ ہم شعر بنانے سے رہے[17]
ہو نازاں جنگ بھری تاریخ پر کیوں؟
قلم اس میں مقدم کیوں نہیں ہے[18]

رجائیت

لغت میں رجائیت کے معنی ہے ، امید و بیم کی کیفیت [19]کسی شاعر کی شاعری میں باوجود  زندگی کے مشکلات کا تذکرہ، عملی طور پر ان سے دوچار ہونے کے ذاتی تجربات وغیرہ شاعری میں جینے کا حوصلہ، اور کامیابی و کامرانی کے حصول کا عزم بھی پایا جاتا ہے۔ اس قسم کی شاعری سے نہ صرف وقت اور حالات کی سختیوں کا کھل کے تذکرہ ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی قاری یا متاثرہ قوم کے افراد کو جینے پر اکسایا جاتاہے۔ انہیں امید کے کرنیں دکھائی جاتی ہیں۔ اور ان کو حالات سے نبرد آزمائی سکھائی جاتی ہے۔ اس تمہید کے بعد ائیں رجائیت کے بارے میں انور جمال کی رائے لیتے ہیں۔

رجائیت(OPTIMISM)

 یہ تنقید اور نفسیات کی اصطلاح ہے۔ رجا عربی میں امید کو کہتے ہیں۔ ادبی اصطلاح کے طور پر آرزومندی، زندگی سے محبت اور پر امید لہجہ اختیار کرنا رجائیت ہے۔ شاعری میں خاص طور پر ایسے موضوعات اختیار کرنا جن سے عزم ولولہ اور اومید کی جذبات بیدار ہو، رجائیت ہے[20]۔

روز پڑتا قاتلوں سے واسطہ
روز اپنے حوصلے بڑھتے رہے[21]

میانِ خار ہنستے پھول جیسے
غموں میں مسکرانا چاہتا ہوں[22]

بجھتے چہروں کے مناظر سے یوں مایوس نہ ہو
کہ دلوں میں ابھی باقی ہے شرر ساتھ چلو
جہد اخلاص محب رائیگاں جاتی ہی نہیں
منزل عشق میں پائیں گے ثمر ساتھ چلو[23]

اسی طر ح بہت سارے امثلہ موصوف کی کتاب میں موجود ہے جو آپکی رجائیت کی گواہ ہیں۔

محشرستان کا حصہ نظم 

نظم کے حصے میں مصوف نے تین ۳ قطعات اور  سولہ ۱۶ نظمیں شامل کیے ہیں۔ جس میں مختلف ہیئتوں میں مختلف مضامین پیش کیے گئے ہیں۔ ذیل میں تمام نظموں پر  مختصر تبصرہ پیش کیا جاتا ہے۔

حمد

نظموں کا حصہ حمد باری تعالی سے جو حمد ذولجلال کے نام سے ہے، شروع ہوتا ہے۔ یہ نظم ہیت کے لحاظ سے مثنوی ہے جبکہ موضوعی لحاظ سے حمد ہے۔ اس حمد میں اس وسیع کائنات میں اہل نظر کو نظر آنے والے جمال و جلال، کائنات کے اندر موجود نظم و ترتیب، بے شمار قسم کی مخلوق، ستارے سیارے، سورج چاند الغرض تمام حسن و ترتیب و توازن کو سراہنے کے بعد اس تمام رنگینی میں دکھائی دینے والی واحد ذات کی تکبیر کا نعرہ  کچھ یوں لگاتے ہوئے ،

اس وحدت و کثرت میں عیاں ایک بات ہے
سمجھو یہی تو اللہ اکبر کی ذات ہے[24]

اور اخر میں یوں دعا گو ہیں۔

یا رب محب کے فکر چمن کو بہار دے
اس روح مضطرب کو کہیں سے قرار دے[25]

پختونوں میں مذہبی رجحان کے سبب اہل بیت سے محبت اکثر بڑے شعرا کے کلاموں ملتا ہے۔ اسی طرح محب کی دوسری نظم سعادت حسین کی  کے نام سے ہے۔ جو معنوی لحاظ سے منقبت اور ہیت کے لحاظ سے غزل نما ہے۔ اس نظم میں  باطل کے سامنے ڈٹ جانے اور سر کٹوانے کو ذندگی پر ترجیح دینے  کا حسینی درس دیاگیا ہے۔ آپ کا جذبہ قربانی اور ہمت و جرات کو سراہا گیا ہے۔ اور اخر میں امام حسین کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کچھ یوں فرماتے ہیں۔

فکر زمانہ کیا جو غلام حسین ہوں
جب مل چکی محب کو محبت حسین کی[26]

دامن کہسار

یہ نظم بھی ہیت کے لحاظ سے غزل نما نظم ہے جو غزل ہی کی ہیت میں لکھی گئی ہے۔ اس نظم میں  دامن کہسار میں فطرت کے مختلف نظاروں میں پوشیدہ حسن و جمال اور ترتیب و توازن کے ساتھ ساتھ ان خوبصورت کائنات میں تمام موجودات کی حکمت کو بھی موضوع سخن بنایا گیا۔ اس کائنات میں موجود نکتہ ہائے غور وفکر اور تدبر پر غور وفکر کی ترغیب بھی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان میں موجود انسانیت کے لیے پیغامات کو بھی جامہ شعر پہنایا گیا ہے ۔ نظم کا اختتام ان دو اشعار پر ہوا ہے ۔

خود اعتمادی سے پر ہیں اپنی مدد آپ میں
پیکرِ ہمت و محنت دامنِ کسہار میں
دل میں رہتی ہے یہ منظر گر مھب اک بار دیکھ
عمر بھر رہنے کی حسرت دامنِ کہسار میں[27]

آپکی کتاب میں فکری  و فنی ہر دو لحاظ سے کلاسیکیت کا عنصر بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ خصوصی طور پر اگر آپ کے نظم کے حصے کے فنی ہیت کو دیکھا جائے تو کلاسیکی شعرا کا اتباع پایا جاتا ہے۔ یعنی بڑی حد تک کلاسیکی اصناف سخن میں کلاسیکی موضوعات کو سامنے رکھا گیا ہے۔ جن میں سے ایک نظم ترقی پسند اور لبرل مسلمان ہے۔ اس نظم میں موصوف نےبے راہ روی، مادر پدر آزادی اور اسلام کی حسب منشا توضیح  و تشریح کو قابل مذمت و مزاحمت ٹہرایا ہے۔  اس نظم کا کچھ ملاحظہ فرمائیں۔

جب کرلیا ہے لب پہ لاالہ کا اقرار
تا عمر اسی کلمے تلے زندگی گزار
کردینِ مبیں کو یوں تصنع  سے نہ بیکار
فطر ت کے حسن کو نہیں ہے حاجت سنگار

تم بن گئے جو اپنی خواہشات کا غلام
تابع بنا رہے ہو اپنے نفس کا اسلام

نظم کے اختتام قرآنی ایت کی مفہوم کو منظوم کرکے پیش کرتے ہوئے بڑی خوبصورتی سے اسلام میں کامل دخول کا درس دیاگیا ہے

مسلم ہے تو شامل رہو اسلام میں کامل
محب رہو محبوب کا ہر لحظہ تابعدار[28]

ترجمہ نگاری کے حوالے سے کہا جاتا ہے یہ کہ تہذیبوں کے درمیاں مکالمہ ہے۔ تراجم مختلف اقوام   کو ایک دوسرے کے نفسیات، اخلاق، عادات و اطوار سے روشناس کرادیتی ہے۔ اس کے ذریعے مختلف اقوام ایک دوسرے کو سمجنے تک رسائی پا جاتے ہیں۔اور شائد اسی اہمیت کے پیش نظر محب جیسی ہمہ جہت شخصیت نے اس طرف بھی توجہ کی ہے۔ اور بڑی  حد تک کامیاب رہے ہیں۔ مثال کے طور پر خلیل جبران کے ایک نظم کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے  جو اس کتاب میں شامل ہے۔

سن لو ایک میرے ہمسفرو میرے عزیزو
پس رحم کی قابل تو وہی قوم ہے جو
ظاہر کا اعتقاد تو رکھتی ہو بلند تر
مذہب جن کے اندر سے کھوکھلے مگر
وہ قوم جو پوشاک پہنتی ہو فخر سے
لیکن نہ بنی انکی کھڈی پر ہو ہنر سے

آناج وہ اپنے کھبی خرمن کا نہ کھائے
مشروب پیے وہ جو اس کے باغ نہ لائے
وہ قوم کہ جابر کو بھی ہے مانتی ہیرو
خوش پوش بادشاہ مہربان سمجھے جو
ظالم کو جو کرتی زیر محض خواب میں
بیداری میں سر خم رہے اس کے اداب میں
ہو رنج تو بلند نہ کردے کوئی صدا
گونگ ہو زبان جن کی نہ ہو حرف بھی آدا
جو فخر محض ابا و اجداد پر کرے
انکے جو کھنڈرات شاندار ہیں کھڑے
جو ظلم کے خلاف نہ آواز اٹھائے
تلوار سے تختے پہ جو گردن کو کٹائے
جس قوم کا کرلے سیاستدان مکاری
وہ قوم کہ ہو جس کا فلسفی بھی مداری
ہے رحم کے قابل بھی وہی قوم سوالی
ہو جس کی ثقافت میں پھکڑپن و نقالی
آجاٗئے جو حاکم تو وہ شادیانے بجائے
جب جائے تو اس کو رسوا کرکے بھگائے
وہ جس کے سالہاسال سے بہرے ہو دانشور
تہواروں میں الجھے ہوئے ہو جس کے طاقتور
ٹکڑوں میں بٹی قوم بھی ہے رحم کی قابل
ہر ٹکڑہ خود قوم تصور کرے کامل[29]

انٹرنیٹ سے نظم(Pity The Nation) کا انگریزی ترجمہ نیچے درج کیا گیا ہے۔ البتہ کتاب محشرستان میں انگریزی میں شائد نام غلطی سے (Pretty The Nation)  لکھا گیا ہے ۔  

“Pity the nation that is full of beliefs and empty of religion.
Pity the nation that wears a cloth it does not weave
and eats a bread it does not harvest.

Pity the nation that acclaims the bully as hero,
and that deems the glittering conqueror bountiful.

Pity a nation that despises a passion in its dream,
yet submits in its awakening.

Pity the nation that raises not its voice
save when it walks in a funeral,
boasts not except among its ruins,
and will rebel not save when its neck is laid
between the sword and the block.

Pity the nation whose statesman is a fox,
whose philosopher is a juggler,
and whose art is the art of patching and mimicking

Pity the nation that welcomes its new ruler with trumpeting,
and farewells him with hooting,
only to welcome another with trumpeting again.

Pity the nation whose sages are dumb with years
and whose strongmen are yet in the cradle.

Pity the nation divided into fragments,
each fragment deeming itself a nation.”[30]


Khalil Gibran

The Garden of the Prophet

پاک وطن کے شہیدوں کے نام

اس نظم کی ہیت کو دیکھا جائے تو اس کی مطلع غزل کے مانند دو مصرعوں پر مشتمل ہے، تاہم آگے نظم نے مثلث کی ہئیت اختیار کی ہے۔ یہ نظم خالص حب الوطنی کی موضوع پر مبنی ہے۔ اس نظم میں موصوف نے وطن کی شہیدوں کی بلند ہمتی، جوانمردی، جذبہ شہادت، اولولعزمی، شجاعت اور اپنے وطن کے خاطر جانثاری کی نغمہ سرائی اور ستائش کی ہے۔ آپ نے اپنی اسی نظم میں ان کی ان جذبات کو سلام پیش کیا ہے۔

احترام

یہ نظم بھی ہئیت کے لحاظ سے غزل نما نظم ہے۔ اس نظم میں موصوف نے اپنی افاقیت اور عالمگیر انسانی احترام کا درس دیا ہے۔ مطلع میں موصوف اپنا مذہب اسلام بتاتے ہوئے کہتے ہیں۔ اسی لیے ہر انسان میرے قابل صد احترام ہے کہ اسلام سلامتی، محبت اور ایک دوسرے کی خیر خواہی کا درس دیتی ہے۔ اس نظم میں رنگ، نسل اور ذات پات میں بٹنے کو نظام زندگی میں بگاڑ کا مترادف بتایا گیا ہے۔ اخر میں دنیا کی بے ثباتی کا بتا کر اپس میں صبر و تحمل اور امن و آشتی سے رہنے کا درس دیا گیا ہے۔

وقت کی گاڑی

یہ آزاد نظم ہے جس میں انسانی زندگی کو تمثیلی انداز میں پیش کرتے ہوئے اسے گاڑی سے تشبیہ دی گئی، جس میں ہر نیا جنم لینے والا بچہ جیسے گاڑی میں نئی سوار ہونے والی سواری ہے اور مرنے والے وہ سواریاں ہیں جو اس گاڑی سے موت کی وادی میں اتار دئیے جاتے ہیں۔  لیکن دوسرے گاڑیوں کے برعکس اس گاڑی میں نہ تو سوار ہونے والے کو اپنے سوار ہونے کی مقام کی خبر ہوتی ہے اور نہ ہی اترنے والی سواری کو اپنے اخری سٹیشن کا کوئی اندازہ ہوتا ہے۔ قدرت ہی سوار کرتی اور اتارتی رہتی ہے۔

پھر لہو رنگ ہوئے

اس نظم سے پہلے لکھے نوٹ  کے مطابق یہ اسی دن کے تاثر میں لکھا گیا ہے جس  دن ۱۶ ستمبر ۲۰۱۲ کو ضلع مہمند کے ایک جامعہ مسجد میں دوران نمازِ جمعہ خود کش دھماکہ ہوا جس کے نتیجے ۳۶ افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ اس نظم میں موصوف نے بڑے اندوہناک مناظر کو پیش کیا ہے۔ لہورنگ مسجد و محراب، سربریدہ کلیاں، نفرت کے آگ کے ایندھن بننے والے معصوم جوانیاں،  اس نظم کے دل چیرنے والے مناظر ہیں۔ اخر میں  انسانیت کی اس بے بسی پر محشر برپا ہونے کی تمنا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

"خواب” اور” ایک میں ہی ہوں "

یہ دو الگ الگ نظمیں ہیں، جن میں سے خواب نظم میں ایک ضرب المثل کو موضوع بناکر بتایا گیا ہے۔ کہ خوشی کے بعد غم، اور رات کے بعد صبح ہوتی ہے۔ لیکن موصوف نے جو دیکھا وہ ایک مسلسل غم و یاس کی کیفیت ہے۔ رات کی تاریکیوں کے بعد صبح بے نور ہی نصیب ہوئی، غم کے بعد خوشی ملی ہی نہیں، کانٹے ہزاروں چھبے پر پھول کوئی نہیں ملا۔ اور انہی تجربات کے بنا پر وہ یوں فیصلہ صادر کردیتا ہے، کہ

بس ایک سراب سا دیکھا جیسے
یا ایک خواب سا دیکھا جیسے[31]

دوسری نظم  میں معاشرے کے ایک بڑی قباحت یعنی لاعلمی کے باوجود خود کو  خواہ مخواہ اہل علم اور اہل رائے سمجھنا ہے۔ جو انسان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرچکا ہے۔ تاہم یہاں پر جو اہل علم ہے وہ خاموشی  اور دوسروں  کے سامنے خود کو ہی غلط سمجھنے پر مجبور ہے۔  اور یہ قباحت نہ کہ کسی خاص طبقہ فکر میں موجود ہے بلکہ اس قوم کا  ہر مکتبہ فکر اور شعبہ  زندگی سے تعلق رکھنے والا اس کا شکار ہے۔

انسان

یہ نظم بھی غزل کی ہئیت میں لکھی گئی ہے۔ اس نظم میں محب نے انسان کے مختلف روپ دکھائے ہیں۔ اور یہ ثابت کے کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہ انسان کے اندر ہی خیر و شر موجود ہیں۔ انسان کو شر پہ قابو پانے اور خیر کو بڑھانے اور پھیلانے کے سبب ہی عزت  و عظمت نصیب ہوتی ہے۔  ان کے مطابق انسان خود پھول بھی ہے اور کانٹا بھی، خوبصورت بھی ہے بدصورت بھی، قاتل بھی خود مقتول بھی خود، فلسفہ بھی اور کھلی کتاب بھی، خوش اور شاداں بھی، مغموم اور ملول بھی، حاکم اور ظالم بھی انسان، محکوم و مظلوم بھی انسان،  الغرض جنت کا طلبگار ہونے کے ساتھ جنت سے نکلنے کا غلطے کرنے تک انسان کی زندگی مجموعہ اضداد ہے۔ اور انہی اضداد سے انسانی زندگی عبارت ہے۔

یہ ہے دیوانہ پن میرا

یہ بھی آزاد نظم ہے۔ اس نظم میں موصوف نے بڑی خوبصورتی کیساتھ  موجودہ دور کی مادہ پرستی اور مفاد پرستی کو موضوع سخن بنا کر پیش کیاہے۔ چونکہ محب ایک حساس شاعر ہیں۔ اور اپنے اردگرد میں مادہ ومفاد کے خاطر ایسے ایسے  مناظر دیکھتاہے جس پر وہ کڑھتا رہتا ہے۔ مادے کے خاطر، انسان کی بے احترامی ، دھوکہ دہی، چند روپوں کے خاطر انسان کا خون کرنا وغیرہ وہ  اعمال ہیں جو کسی بھی حساس انسان کی زندگی اجیرن کرنے کےلیے کافی ہیں۔  مزید برآں معاشرے میں ایسے حساس اور موجودہ دور میں انسانی احترام مقدم سمجھنے والوں کو پاگل اور ناکارہ سمجھا جاتاہے۔ تو ایسے معاشرے میں محب حق بجانب ہیں کہ وہ کہتے ہیں،

کہ دیوانہ بہ دیہہ خندد
و دیہہ خندد بہ دیوانہ [32]

کمائی

یہ بھی آزاد نظم ہے۔ اس میں موصوف نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ایک نجار یا بڑھئی کے کام کے بارے میں لکھاہے۔ اس نظم میں بھی خراب حالات اور بم دھماکوں کے و    قت کا مواد ملتا ہے۔ نظم کے مطابق جب ایک نجار ڈھیر سارا سودا سلف گھر لاتا ہے اور ساتھ میں بیوی کو نقدی بھی تھماتا ہے تو وہ سمجھتی ہے کہ چونکہ شادیوں کا سیزن ہے اور فرنیچر بناکر اتنا کما کے لایا ہے۔ لیکن شوہر بڑی پریشانی کے ساتھ بتاتا ہے کہ آج اتنے تابوت بنائے ہیں کہ اس سے بہت سارا پیسہ اکھٹا ہوا ہے تاہم ایسے کمائی کی کیا خوشی جو اتنی جانوں کی قیمت پہ ملے۔

سناٹے کا شور

یہ بھی آزاد نظم ہے۔ اس میں شاعر نے اپنی قلبی اور ذاتی کیفیت کی عکاسی کی ہے۔ جاڑے کی لمبی رات کا منظر پیش کیا ہے جس میں موصوف کسی کی یاد میں جاگ رہا ہے اور باقی دنیا سو رہی ہے۔ ان کی یادوں کی شور وغل پرپا ہے اور جتنی رات کی خاموشی گہری ہوجاتی ہے وہ شور اور زیادہ زور سے سنائی دینے لگتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے اسکی ذات میدان جنگ بن چکی ہو۔ ذہن و دل آپس میں لڑنے لگے ہیں ۔ اور شاعر اپنے احساس کے نگاہوں سے اس سارے جھگڑے کا تماشہ کر رہا ہوتا ہے۔  ہر طرف  ارمان جل رہے ہیں ، جس میں شاعر بے بس تماشائی کے سوا کچھ بھی نہیں اور یوں ہی اس سناٹے کا شور برپا ہے۔

دعا

یہ کتاب کی سب سے آخری نظم ہے۔ ہئت کے لحاظ سے یہ نظم مثنوی ہے۔ اس نظم میں موصوف نے بہت ہی خوبصورتی کیساتھ جنگ اور امن کی تصویر کشی کی ہے۔ اور اخر ی بند میں کچھ یوں دعاگو ہیں۔

اک لفظ جو ہے امن وہ جنت کا امیں ہے
اک لفظ جو ہے جنگ جہنم کا مکیں ہے
اک لفظ کی برکت سے ہمیں نورِجہاں دے
اک لفظ سے یا رب تو ہمیں حفظ و اماں دے[33]

کتاب میں جو تین قطعات شامل ہیں ان کی موضوعات بالترتیب   وطن اور حب الوطنی، سخت کوشی اور جفاکشی،  اور اخری قطعہ میں موصوف محبت کی تلاش پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گویا آج کی دنیا میں الفت و محبت کی توقع گویا زمیں پر جنت کا خواہش کرنا ہے۔

فنی طور پر آپ کےہاں سہل ممتنع، ارسالالمثل، تلمیحات،تشبیہ استعارہ   اور دیگر بدیع و بیان کی خوبیاں اور خصوصیات پائے جاتے ہیں۔ جس پر کام کرنے کے لیے اتنے مطالعہ کی ضرورت ہے جتنے کی مجھے میری ذاتی سندی تحقیق کا مطالعہ اجازت نہیں دیتا۔ میں اپنے اس عذر کو موضوع تحقیق بنا کر دیگر محقیقن کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتاہوں لہذا اس موضوع پر مقامی سکالرز، لکھاری، نقاد اور محقیقین حضرات کام کریں ۔  جو میرے سفارشات میں سے ایک ہے۔

اشناباجوڑے

۱۶۔ مئی ۲۰۲۱

الف  ب اکیڈمی باجوڑ

حوالہ جات


[1] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸ بیک فلیپ

[2] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص ۲۵

[3] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص ۱۴۸

[4] ۔ ابو الفضل، عبدالحفیظ بلیاوی، مصباح اللغات، پشاور، مکتبہ عمر فاروق پشاور، ۲۰۱۵، ص ۱۵۵

[5] ۔  فیروز الدین، مولوی، لاہور، راولپنڈی، کراچی، فیروز سنز پرائیویٹ لمیٹیڈ، ساتویں اشاعت، ۲۰۱۶ ص ۱۲۷۴

[6]۔ اردو لغت تاریخی اصول پر Retrieved on 24/04/2021 03:05 AM, From  http://udb.gov.pk/Urdu/Lughat

[7] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۴۱                  

[8] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۱۷

[9] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۱۷

[10] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۲۴

[11] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص، ۴۸

[12] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص۴۱

[13] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص۶۳

[14] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص۸۱

[15] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص۹۳

[16] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص۳۹

[17] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۵۱

[18] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۵۰

[19] ۔اردو لغت تاریخی اصول پر Retrieved on 24/04/2021 03:05 AM, From  http://udb.gov.pk/Urdu/Lughat

[20] ۔انورجمال، پروفیسر، ادبی اصطلاحات، اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد، اشاعت پنجم جنوری ۲۰۱۹ ص۱۰۶

[21] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص۲۷

[22] ۔ محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص ۱۹

[23] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،ص ۱۱۸

[24] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۱۳۱

[25] ۔ محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۱۳۱

[26] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص ص ۱۳۲ تا ۱۳۳

[27] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۱۳۶

[28] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص۱۳۷

[29] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸، ص ص ۱۴۰ تا ۱۴۲

[30] Retrieved on 24/04/2021 03:05 AM, From  https://www.goodreads.com/work/quotes/1914829-the-garden-of-the-prophet

[31] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص۱۴۹

[32] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص۱۵۴

[33] ۔محب، غلام حسین، محشرستان، پ ن، مارچ ۲۰۱۸،  ص۱۶۰

Leave A Reply

Your email address will not be published.